بنگلورو۔یکم نومبر(ایس او نیوز)علاقائی بنیادوں پر ریاستوں کی تقسیم اور متعلقہ ریاستوں میں علاقائی زبان کو ملک کے آئین نے تسلیم کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کرناٹک میں کنڑا کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ بنیادی تعلیم کے شعبے میں کنڑاز بان کو مادری زبان اپنانے کیلئے ریاستی حکومت کی کوششوں کو انصاف نہیں مل پایا ہے۔ عدالتوں میں اس معاملے میں کرناٹک کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی لئے فوری طور پر وزیراعظم نریندر مودی کو مداخلت کرتے ہوئے اس ضمن میں آئینی ترمیم لانی چاہئے۔ یہ بات آج کنڑا راجیواتسوا کے سلسلے میں کنٹیروا اسٹیڈیم میں منعقدہ تقریب میں ترنگا لہرانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کو اس سلسلے میں تمام وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ طلب کرنی چاہئے تاکہ علاقائی زبانوں کو متعلقہ ریاستوں میں مکمل فوقیت دینے کیلئے آئین میں ترمیم پر غور وخوض کیا جاسکے۔ اس ترمیم کے نتیجہ میں ہر ریاست میں تعلیم علاقائی زبان میں بطور مادری زبان ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ عدالتوں کی طرف سے بارہا علاقائی زبان کو بطور مادری زبان اپنانے کے خلاف سنائے جارہے فیصلوں کی وجہ سے بچوں کی تعلیم اور روزگار پر گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک کی تشکیل کی امسال ڈائمنڈ جوبلی منائی جارہی ہے۔اسی لئے اس مرتبہ راجیواتسوا کا اہتمام بڑے پیمانے پر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک اپنے آپ ایک متحد ریاست نہیں بنی بلکہ اس کیلئے بہت ساری قربانیاں دی گئیں اور اس کیلئے کافی تحریکیں چلیں۔ جس کے نتیجہ میں مختلف علاقے متحد ہوکر ایک ریاست کی شکل اختیار کرسکے۔ اس ریاست کے مفادات ، یہاں کی زبان اور زمین کی حفاظت کرنا یہاں کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ کنڑا سے محبت کا مظاہرہ صرف یکم نومبر کو کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کنڑا زبان اور تہذیب سے لگاؤہونا چاہئے۔ سدرامیا نے کہاکہ 1994میں جب ریاستی حکومت نے جب لسانی پالیسی کااعلان کیا تو اس کا چیلنج کرتے ہوئے ان ایڈڈ تعلیمی اداروں نے عدالت سے رجوع کیا۔2014میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے ذریعہ تعلیم کیلئے زبان کا انتخاب والدین کے اختیار پر چھوڑ دیا۔ ریاستی حکومت کی طرف سے عائد کنڑا کے لزوم کو کالعدم قرار دیا گیا ۔ ریاستی حکومت کی طرف سے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی گئی ، لیکن اس میں بھی کامیابی نہیں ملی، اسی لئے انہوں نے بار ہا وزیراعظم کو مکتوب روانہ کئے اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے تمام علاقائی زبانوں کو لاحق خطرات سے آگاہ کرایا ہے۔آئین میں ترمیم ہی علاقائی زبانوں کو تقویت دینے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نہ صرف زبان کے معاملے میں بلکہ کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں بھی کرناٹک کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہوتی رہی ہے، جس کی وجہ سے دو مرتبہ خصوصی لیجسلیچر اجلاس طلب کرکے متفقہ قرار داد منظور کرنی پڑی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اس معاملے میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ اجلاس میں ریاستی وزراء جناب روشن بیگ، تنویر سیٹھ ، کے جے جارج، میئر جی پدماوتی، محکمۂ تعلیمات کی کمشنر سوجنیا ، سکریٹری اجئے سیٹھ ، ڈپٹی کمشنر وی شنکر وغیرہ موجود تھے۔اس موقع پر ہونہار طلبا کو لیاب ٹاپ اور نقد رقم تقسیم کی گئی ، 110 اسکولوں کے 10476 بچوں نے رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کئے۔آج جیسے ہی وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اپنی تقریر شروع کی ہجوم میں موجود ایک شخص نے انصاف کا مطالبہ کیا۔ اور نعرہ بازی کرنے لگا ، فوری طور پر پولیس نے اسے پکڑ لیا۔وزیر اعلیٰ سدرامیا نے پولیس جوانوں سے مخاطب ہوکر کہاکہ اسے جو انصاف چاہئے دیا جائے گا۔اسے چھوڑ دیا جائے۔